Friday, 30 October 2015

مختصر لیکن پُر اثر بات

"مختصر مگر پراثر"
ایک خاتون ایک مولوی صاحب کے پاس گئی"مولوی صاحب، کوئی ایسا تعویذ لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے رویا نہ کریں۔"
مولوی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔
اگلے ہی روز کسی نے پیسوں سے بھرا تھیلا گھر کے صحن میں پھینکا۔ شوہر نے ایک دُکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ہوئی اور دُکانیں بڑھتی گئیں۔ پیسے کی ریل پیل ہو گئی۔ پرانے صندوق میں ایک دن عورت کی نظر تعویذ پر پڑی۔ "جانے مولوی صاحب نے ایسا کیا لکھا تھا؟" تجسس میں اُس نے تعویذ کھول ڈالا۔لکھا تھا کہ
"جب پیسے کی ریل پیل ہو جائے تو سارا پیسہ تجوری میں چھپانے کی بجائے کُچھ ایسے گھر میں ڈال دینا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آواز آتی ہو"

Thursday, 22 October 2015

ہاتھوں کی لکیروں

میرے ہاتھوں کی لکیروں کو بنانے والے
ان لکیروں پہ مقدر کو چلانے والے
کیا ضروری تھا مقدر میں میرے غم لکھنا
ساتھ پھولوں کے کانٹوں کو لگانے والے
اب تو عادت سی بنا لی ہے ہم نے اپنی
تم ہو روٹھنے والے ، ہم منانے والے
کاش تم نے بھی کبھی ہم کو پکارا ہوتا
ہم تیرا نام ہونٹوں پہ سجانے والے
پھول چنتے ہیں سبھی کانٹے کوئی چنتا نہیں
ہم ہیں کانٹوں کو پلکوں سے اٹھانے والے
ان کے دل میں بھی کبھی درد تو ہوتا ہو گا
وہ جو ہوتے ہیں اوروں کو ہنسانے والے
تم چاہو بھی تو ہم کو نہ بھلا پا ؤ گے
ہم شناساؤں میں تیرے ہیں پرانے والے
چھوڑ دی محفل دنیا بھی اے پارس ہم نے
پھر بھی خوش ہوتے نہیں یہ زمانے والے

آج کا انسان

آج کا انسان صرف دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے اور یہی اس کی بدنصیبی کا ثبوت ہے۔
خوش نصیبی ایک متوازن زندگی کا نام ہے، نہ زندگی سے فرار ہو اور نہ بندگی سے فرار ہو۔
اگر اپنا گھر اپنے سکون کا باعث نہ بنے تو توبہ کا وقت ہے۔

اگر مستقبل کا خیال ماضی کی یاد سے پریشان ہو تو توبہ کر لینا مناسب ہے۔
اگر انسان کو گناہ سے شرمندگی نہیں تو توبہ سے کیا شرمندگی۔
توبہ منظور ہو جائے تو وہ گناہ دوبارہ سر زد نہیں ہوتا۔
جب گناہ معاف ہو جائے تو گناہ کی یاد بھی نہیں رہتی۔
گناہوں میں سب سے بڑا گناہ توبہ شکنی ہے۔
توبہ کا خیال خوش بختی کی علامت ہے کیونکہ جو اپنے گناہ کو گناہ نہ سمجھے وہ بد قسمت ہے۔
نیت کا گناہ نیت کی توبہ سے معاف ہو جاتا ہے اور عمل کا گناہ عمل کی توبہ سے دور ہو جاتا ہے۔
اگر انسان کو اپنے خطاکار یا گناہ گار ہونے کا احساس ہو جائےتو اسے جان لینا چاہیے کہ توبہ کا وقت آگیا ہے۔
اگر انسان کو یاد آجائے کہ کامیاب ہونے کے لیے اس نے کتنے جھوٹ بولے ہیں تو اسے توبہ کر لینی چاہیے۔
حضرت واصف علی واصف

"آزمائش"

" آزمائش "
مجھے اک نظم لکھنی ہے،
کسی کے پُشت کی جانب بندھے ہاتھوں کی وحشت پر
مجھے اک نظم لکھنی ہے
-
مجھے باور کرانا ہے،
کسی گھر میں کوئ بچّہ
یقینی موت سے جب لڑ رہا ہوتو
کسی ماں کے بندھے ہاتھوں پہ
ایسی آزمائش کی گھڑی میں کیا گُزرتی ہے
-
مجھے یہ بھی بتانا ہے
جو بچّے یہ تماشا دیکھنے پر
رات دن مجبور ہوتے ہیں
یہ ماں اپنے بندھے ہاتھوں سے ان کو خوف کے عفریت سے
کیسے چھڑاتی ہے
-
مجھے معلوم ہے اک دن
دُعا آباد کو جاتی
دُعا کی آخری بس چھوٹ جاۓ گی
دُکھوں کا یہ تماشا ختم ہوجاۓ گا
اور آخر
بندھے ہاتھوں کی رسی ٹوٹ جاۓ گی
-
اگر موقع ملا تو میں
کھلے ہاتھوں کی بے چینی پہ بھی
اک نظم لکھوں گا

سنا ہے روٹھنا بھی

ﺳﻨﺎ ﮬﮯ
ﺭﻭﭨﮭﻨﺎ ﺑﮭﯽ
ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺭﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ
ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺁﺟﮑﻞ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮬﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﻮﮞ ؟
ﻣﮕﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻭﭨﮭﻨﺎ
ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮬﻮ ﺟﺎﻧﺎ
ﺑﺠﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﺣﻖ ﺩﻭ
ﭘﻮﭼﮫ ﻟﻮﮞ
ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﯿﺴﯽ ؟
ﺟﮩﺎ ﮞ ﺗﮏ ﯾﺎﺩ ﮬﮯ ﻣﺠﮭﮑﻮ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ ﺷﺎﺋﺪ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ
ﺭﺳﻢ ﺍﻟﻔﺖ ﭘﺮ
ﯾﺎ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱ ﭘﺮ
ﮐﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺤﺚ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﻣﻨﺎﻧﮯ ﺭﻭﭨﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ
ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﮬﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺧﻮﺩ ﺳﻮﭺ ﻟﻮ
ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮬﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ ,.
ﺍﮎ ﺍﯾﺴﮯ
ﭼﻮﮌﮮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ
ﮐﮧ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ
ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺭﻭﺍﮞ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺩﻭﺭ ﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺩﻭﺭﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﻣﯿﺎﮞ
ﭘﮭﺮ ﺭﻭﭨﮭﻨﺎ ﮐﯿﺴﺎ
ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﻮﮞ

مقابل تم گر نہ ہوتے،طوفان ہو جاتا

مقابل تم نہ گر ہوتے کوئی طوفان ہوجاتا
مرا نقصان ہونا تھا کہیں نقصان ہو جاتا

مری قسمت میں قربانی تھی لازم جس طرح بھی ہو
کہیں پر بھی ، کسی پر بھی میں قربان ہو جاتا

مجھے تم سے نہیں شکوہ، یہ ہے میری سیاہ بختی
مجھے بس ہجر ملنا تھا کہیں بھی دھیان ہوجاتا

ھُما کے ساۓ سے بڑھ کر تمھارا سایہ تھا مجھ کو
تمھارا ساتھ گر ملتا تو میں سُلطان ہو جاتا

شناسائی نہ راس آئی تمھارے ساتھ اس دل کو
بہت بہتر یہی ہوتا کہ میں انجان ہو جاتا

مکانِ دل مکمل میں ترے ہی نام کردیتا
ذرا کچھ اور لمحے تو مرا مہمان ہوجاتا

مجھے چاہت کے بدلے گر تمھاری چاہ مل جاتی
مرے احسان پہ گویا یہ اک احسان ہوجاتا

تجھے منظور ہی نہ تھا سفر میں ہم سفر ہونا
وگرنہ سنگِ راہ بن کر ، تری پہچان ہوجاتا

Tuesday, 20 October 2015

تمہیں میں کس طرح بھولوں؟

تمہیں میں کِس طرح بھولوں
بتاؤ کوئی نُسخہ ہے
مجھے تم یہ تو بتلاؤ کہ کیا تم کوئی منظر ہو
کہ جس کو دیکھ کر،میں اگلے پل میں بھول جاؤں گا
یا تم کوئی کہانی ہو
جسے پڑھ کر میں کچھ ہی دیر میں سب بھول جاؤں گا
یا تم کوئی کھلونا ہو
کہ جس کے ٹوٹ جانے پر میں اُس کو پھینک ڈالوں گا
یا تم کوئی تماشا ہو
جسے کچھ دیر رُک کر، دیکھ کر، میں اپنی راہ لوں گا
بتاؤ؟؟ اب کے چُپ کیوں ہو
کوئی نُسخہ تو ہو گا نا؟؟ کوئی تعویز بھی ہو گا
کوئی ترکیب تو ہو گی؟؟ کوئی تجویز ہی دے دو
ارے اب کچھ تو بتلاؤ اگر تم نے کہا ہے کہ "مجھے اب بھول جاؤ تم
مری جاں! بھول جاؤں گا ، مگر کیسے؟؟ یہ بتلاؤ
مرے محبوب!!!بس کر دو !!! ہنسی آتی ہے اب مجھ کو
تمہاری ایسی سوچوں پر،یہ اِن بچگانہ باتوں پر
سنو!!! ایسا نہیں ہوتا، تعلق ٹوٹ جانے پر کوئی بھولا نہیں کرتا
تمہیں جانا ہے ، تو جاؤ!!! میں رستے میں پڑا ہوں کیا
تمہیں اِک لفظ بولا ہو؟؟ کوئی شکوہ کیا میں نے؟؟
کوئی آنسو بہایا ہو؟؟ کوئی دکھڑا سُنایا ہو؟؟
تمہیں رُکنے کا بولا ہو؟؟ کوئی تفصیل مانگی ہو؟؟
اگر ایسا نہیں کچھ بھی، تو پھر تم کیوں بضد ہو کہ تمہیں میں بھول ہی جاؤں؟؟
تمہیں جانا ہے نا؟؟؟... جاؤ
تمہاری یاد ہو،کچھ بھی ہو، تم آزاد ہو....جاؤ
تمہیں اِس سے نہیں مطلب!!! غلط فہمی تھی یا اُلفت
یہ میرا دردِ سر ہے، دردِ دِل ہے ، جو بھی ہے ، جاؤ
تمہارا کام تھا، تم نے محبت کی، بہت اچھے
یہ میرا کام ہے، میں یاد رکھوں یا بھُلا ڈالوں...
عجب باتیں ہیں دُنیا کی، عجب رسمیں ہیں اُلفت کی
محبت کر تو لیتے ہیں، نبھانا بھول جاتے ہیں
کسی دِن چھوڑ جائیں گے، بتانا بھول جاتے ہیں
مجھے اب کچھ نہیں سُننا، مجھے کچھ بھی نہ بتلاؤ
مجھے تم مشورے مت دو!!! کہ میں نے کیسے جینا ہے
اگر تم بھولنے کا گُر مجھے بتلا نہیں سکتے ، تو پھر کچھ بھی نہ بتلاؤ
چلے جاؤ!!!
چلے جاؤ!!!
کبھی نہ لوٹ کر آنے کو تم.
... جاؤ!!! چلے جاؤ