مقابل تم نہ گر ہوتے کوئی طوفان ہوجاتا
مرا نقصان ہونا تھا کہیں نقصان ہو جاتا
مری قسمت میں قربانی تھی لازم جس طرح بھی ہو
کہیں پر بھی ، کسی پر بھی میں قربان ہو جاتا
مجھے تم سے نہیں شکوہ، یہ ہے میری سیاہ بختی
مجھے بس ہجر ملنا تھا کہیں بھی دھیان ہوجاتا
ھُما کے ساۓ سے بڑھ کر تمھارا سایہ تھا مجھ کو
تمھارا ساتھ گر ملتا تو میں سُلطان ہو جاتا
شناسائی نہ راس آئی تمھارے ساتھ اس دل کو
بہت بہتر یہی ہوتا کہ میں انجان ہو جاتا
مکانِ دل مکمل میں ترے ہی نام کردیتا
ذرا کچھ اور لمحے تو مرا مہمان ہوجاتا
مجھے چاہت کے بدلے گر تمھاری چاہ مل جاتی
مرے احسان پہ گویا یہ اک احسان ہوجاتا
تجھے منظور ہی نہ تھا سفر میں ہم سفر ہونا
وگرنہ سنگِ راہ بن کر ، تری پہچان ہوجاتا
No comments:
Post a Comment