میں نے اس دل سے کچھ سوال کیے
دل نے مجھ سے کہا میرے معصوم
چاند دن میں نکل نہیں سکتا
رات میں کام کیا ہے سورج کا
دور تک بے کراں سمندر کا
چلتا پانی رکا نہیں کرتا
کوئی صحرا بہا نہیں کرتا
تم تو شاعر ہو کچھ بھی کہہ لو مگر
تتلیاں رات میں چمکتی نہیں
دن میں جگنو کھلا نہیں کرتا
خار کو خار بن کے رہنا ہے
اک آزار بن کے رہنا ہے
دھند میں روشنی نہیں ہوتی
دشت میں راستہ نہیں ملتا
میں نے لیکچر طویل سن کے وصی
پھر کبھی دل سے یہ نہیں پوچھا
وہ تجھے یاد کیوں نہیں کرتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا ۔۔۔۔۔
دل نے مجھ سے کہا میرے معصوم
چاند دن میں نکل نہیں سکتا
رات میں کام کیا ہے سورج کا
دور تک بے کراں سمندر کا
چلتا پانی رکا نہیں کرتا
کوئی صحرا بہا نہیں کرتا
تم تو شاعر ہو کچھ بھی کہہ لو مگر
تتلیاں رات میں چمکتی نہیں
دن میں جگنو کھلا نہیں کرتا
خار کو خار بن کے رہنا ہے
اک آزار بن کے رہنا ہے
دھند میں روشنی نہیں ہوتی
دشت میں راستہ نہیں ملتا
میں نے لیکچر طویل سن کے وصی
پھر کبھی دل سے یہ نہیں پوچھا
وہ تجھے یاد کیوں نہیں کرتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا ۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment