Tuesday, 20 October 2015

میں نے اس دل سے کچھ سوال کیے

میں نے اس دل سے کچھ سوال کیے
دل نے مجھ سے کہا میرے معصوم
چاند دن میں نکل نہیں سکتا
رات میں کام کیا ہے سورج کا
دور تک بے کراں سمندر کا
چلتا پانی رکا نہیں کرتا
کوئی صحرا بہا نہیں کرتا
تم تو شاعر ہو کچھ بھی کہہ لو مگر
تتلیاں رات میں چمکتی نہیں
دن میں جگنو کھلا نہیں کرتا
خار کو خار بن کے رہنا ہے
اک آزار بن کے رہنا ہے
دھند میں روشنی نہیں ہوتی
دشت میں راستہ نہیں ملتا
میں نے لیکچر طویل سن کے وصی
پھر کبھی دل سے یہ نہیں پوچھا
وہ تجھے یاد کیوں نہیں کرتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا
تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا ۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment