Thursday, 22 October 2015

"آزمائش"

" آزمائش "
مجھے اک نظم لکھنی ہے،
کسی کے پُشت کی جانب بندھے ہاتھوں کی وحشت پر
مجھے اک نظم لکھنی ہے
-
مجھے باور کرانا ہے،
کسی گھر میں کوئ بچّہ
یقینی موت سے جب لڑ رہا ہوتو
کسی ماں کے بندھے ہاتھوں پہ
ایسی آزمائش کی گھڑی میں کیا گُزرتی ہے
-
مجھے یہ بھی بتانا ہے
جو بچّے یہ تماشا دیکھنے پر
رات دن مجبور ہوتے ہیں
یہ ماں اپنے بندھے ہاتھوں سے ان کو خوف کے عفریت سے
کیسے چھڑاتی ہے
-
مجھے معلوم ہے اک دن
دُعا آباد کو جاتی
دُعا کی آخری بس چھوٹ جاۓ گی
دُکھوں کا یہ تماشا ختم ہوجاۓ گا
اور آخر
بندھے ہاتھوں کی رسی ٹوٹ جاۓ گی
-
اگر موقع ملا تو میں
کھلے ہاتھوں کی بے چینی پہ بھی
اک نظم لکھوں گا

No comments:

Post a Comment